نیت میں استمرار

نیت میں استمرار

 

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

نیت میں استمرار

 

دن میں روزہ کی نیت سے منصرف ہونا

72. میں نے ماہ رمضان میں شیطانی وسوسے کی وجہ سے اپنا روزہ باطل کرنے کا عزم کیا لیکن قبل اس کے کوئی ایسا عمل انجام دوں جو روزہ کو باطل کرتی ہے, اپنے ارادہ  سے منصرف ہوگیا  تو میرے روزے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر یہ کام ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور روزے میں پیش آئے تو اسکا کیا حکم ہے؟

ج۔ ماہ رمضان میں اگر دن کے دوران روزہ کی نیت سے  اسطرح سے منصرف ہوجائے  کہ روزہ کو ادامہ دینے کا قصد نہ رکھے تو اسکا روزہ باطل ہوگا اور دوبارہ ادامہ دینے کا قصد کرنے کا کوئی فایدہ نہیں ہے, البتہ مغرب کی اذان تک ایسے کام سے بھی اجتناب کرے جو روزہ کو باطل کرتا ہے, لیکن اگر تردید ہو یعنی ابھی تک  روزہ باطل کرنے پرتصمیم گیری نہیں کیا ہے  یا روزہ باطل کرنے والے  کام انجام دینے کا عزم کیا ہے  لیکن ابھی تک انجام نہیں دیا ہے تو ان دونوں صورتوں میں روزہ کا صحیح ہونا محل اشکال ہے۔ اور احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ  رکھے اور بعد میں قضا بھی بجا لائے ۔ دیگر واجب معین روزے جیسے نذر معین اور اس جیسے دیگر روزوں کا بھی یہی حکم ہے.

 

73. مستحب یا واجب غیر معین روزے میں دن کے دوران روزہ باطل کرنے کا عزم کروں اور قبل اس کے کہ روزہ باطل کرنے والے کام کو انجام دوں اپنے تصمیم سے منصرف ہوجاوں تو میرے اس روزے کا  کیا حکم ہے؟

ج۔ مستحب یا ایسے واجب روزے جنکا  وجوب ہونا کوئی خاص وقت معین نہیں, ایسے روزے کو توڑنے کا عزم کرے لیکن  ایسا کام جو روزہ کو باطل کرتا ہے انجام نہ دیا ہو او ردوبارہ ظہر سے پہلے – مستحب روزوں میں غروب تک- روزہ کی نیت کرے تو اسکا روزہ صحیح ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.