ماہ رمضان کی پہلی یا آخری تاریخ چاند دیکھنے سے طے ہو گی یا جنتری سے؟ جبکہ ماہ شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں ؟

ماہ رمضان کی پہلی یا آخری تاریخ چاند دیکھنے سے طے ہو گی یا جنتری سے؟ جبکہ ماہ شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں ؟

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

 

مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے طریقے

 

پهلی تاریخ ثابت هونے کے طریقے

14. ماہ رمضان کی پہلی یا آخری تاریخ چاند دیکھنے سے طے ہو گی یا جنتری سے؟ جبکہ ماہ شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں ؟
ج۔ماہ رمضان کی  پہلی یا آخری تاریخ , خود چاند دیکھنے , دو عادل  کی گواہی  , یا ایسی شہر ت  جس سے یقین حاصل ہو جائے, یا تیس دن گذر جائیں یا حاکم شرع  کے حکم سے ثابت ہوتی ہے.

 

15. میرے محل سکونت میں چاند دیکھے بغیر  صرف شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد جمعہ کو ماہ رمضان کا یکم اعلان کیا گیاہے جبکہ شعبان کی پہلی تاریخ بھی تحقیق کے ساتھ معلوم نہ تھی  لہذا استدعا کی جاتی ہے کہ مجھ حقیر اور دیگر دوستوں  کے لئے شب قدر کی بابرکت راتوں سے استفادہ کرنے اور روزانہ کی دعائیں پڑھنے , اور بعض دیگر دنوں اور راتوں  کی مخصوص 
اعمال  کے بارے میں حکم معین فرمائیں.
ج۔ شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد ماہ رمضان کے یکم کا حکم ہوتا ہے  اگرچہ ماہ رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو بشرطیکہ شعبان کی پہلی تاریخ شریعی طریقے سے ثابت ہوچکی ہو وگرنہ تیس دن گزرنا معیار نہیں ہوگا۔ شب قدر کی راتیں ایک استمراری وجود کی حامل ہیں ,  شب قدر اور ماہ رمضان کے مخصوص اوقات کی دعاوں کی فضیلت کا حصول ,  اگر مکلف کو زمان کی خصوصیت
معلوم نہ ہوجائے  تو احتیاط  اور عمل کے تکرار سے وہ فضیلت حاصل کرسکتا ہے.

 

دن میں ماہ رمضان کے  حلول کا علم ہونا

16. اگر ظہر سے پہلے رمضان کی پہلی تاریخ کا اعلان کرے تو اس دن کے روزے کا کیا حکم ہے ؟
ج۔  اگر مبطلات روزہ میں سے کسی کا مرتکب نہ ہوا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر روزے کی نیت کرے اور روزہ رکھے اور بعد میں اسکی قضا بھی  رکھے۔ لیکن اگر مبطلات میں سے کسی کا مرتکب ہوچکا ہو تو روزہ باطل ہے؛ لیکن ماہ رمضان کی احترام میں ان کاموں سے اجتناب کرے جو روزہ کو باطل کرتے ہیں اور ماہ رمضان کے بعد اس روزے کی قضا بھی بجا لائے.

 

مہینے کی پهلی تاریخ ثابت نه هوتے ہوئے روزہ رکھنا

17. ماہ رمضان کی پہلی تاریخ اور عید سعید فطر  کا تعین چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے  ممکن نہ ہو خواہ آسمان پر بادل ہونے کی وجہ سے ہو یا کسی اور سبب کی وجہ سے , اور ماہ شعبان یا ماہ رمضان کے تیس دن بھی پورے نہ ہوئے ہوں , تو ہم لوگ جو جاپان میں رہتے ہیں کیا  ہم ایران کے افق کے مطابق یا جنتری کے مطابق عمل کرسکتے ہیں ؟ہمارا وظیفہ کیا ہے؟
ج۔ اگر مہینے کی پہلی تاریخ نہ خود چاند دیکھنے سے , یا نہ   ان قریبی شہروں میں  دیکھنے سے جن کے ساتھ افق ایک ہے,نہ دو عادل کی گواہی سے , اور نہ حاکم کے حکم سے ثابت ہوجائے تو مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے تک احتیاط پر عمل کرنا لازمی ہے.

 

عید فطر کے ثبوت میں مراجع تقلید کا اختلاف نظر

18. اگر عید فطر کے ثابت ہونے میں مجتہدوں کے درمیان اختلاف نظر پایا جائے تو مکلف کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا ہر مقلد کو اپنے مرجع تقلید کی طرف رجوع کرنا چاہئے؟
ج۔ مہینے کی پہلی تاریخ کے ثبوت میں تقلید کی گنجائش نہیں ہے, بلکہ اگر کسی کو مرجع تقلید کے کہنے پر چاند نظر آنے پر اطمینان حاصل ہوجائے تو ضروری ہے کہ روزہ افطار کرے اور اگر شک ہو تو  اس دن  روزہ رکھنا ضروری ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.