صرف معدنی مواد اور جراثیم و غیرہ کو جدا کردینے سے استحالہ حاصل نہیں ہوتا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

س ٨۸: علمی تحقیقات کے نتائج بتاتے ہیں کہ گٹنروں اور نالیوں کے گندے پانی کا وزن معدنی مواد اور جراثیم کی ملاوٹ کی وجہ سے پانی کے طبعی وزن سے دس فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ پانی صاف کرنے والی مشینیں اور فلٹر، اس سے ان مواد اور جراثیم کو فزیکل ، کیمیکل اور بیالوجیکل عمل کے ذریعہ جدا کردیتے ہے چنانچہ مکمل طور پر صاف ہو جانے کے بعد یہ پانی فیزیکلی(رنگ، بو اور مزہ) کیمیکلی (مخلوط معدنی مواد) اور طبی اعتبار سے (مضر جراثیم سے) بہت سی نہروں اور جھیلوں کے پانی سے کئی گنا زیادہ حفظان صحت کیلئے مناسب اور بہتر ہوجاتاہے، خاص طور پر اس پانی سے، جو آبیاری کے لئے استعمال ہوتاہے اور چونکہ یہ پانی صاف ہونے سے پہلے نجس تھا تو کیا مذکورہ بالا عمل کے ذریعے پاک ہوجائے گا اور اس پر استحالہ کا حکم لاگو ہوگا یا صاف ہونے کے بعد بھی نجس ہی رہے گا ؟
ج: صرف معدنی مواد اور جراثیم و غیرہ کو جدا کردینے سے استحالہ حاصل نہیں ہوتا ، مگر یہ کہ تصفیہ والے عمل کے ذریعے پانی کو بخارات میں بدلا جائے اور پھر بخارات کو پانی کی صورت میں بدلا جائے ۔
منبع: سائیٹ ہدانا نے حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.