کیا جماع بلوغ کی نشانیوں میں سے ہے اور جماع انجام دینے سے شرعی احکام اس پر واجب ہوتی ہیں؟

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

غسل کے وجوب اور کیفیت کے بارے میں جاہل شخص کا روزہ

 

127. کیا جماع بلوغ کی نشانیوں میں سے ہے اور جماع انجام دینے سے شرعی احکام اس پر واجب ہوتی ہیں؟ اگر کسی کو یہ معلوم نہ ہو اور اسی طرح سے کئی سال گزر جائے , تو کیا اس پر جنابت کا غسل واجب ہے؟ اور اگر وہ اعمال جن میں جنابت سے پاک ہونا شرط ہے جیسے نماز اور روزہ, ان کو غسل جنابت سے پہلے بجا لائے تو کیا یہ اعمال باطل اور انکی قضا واجب ہے؟

ج۔  انزال اور خروج منی کےبغیر جماع بالغ ہونے کی نشانیوں میں سے نہیں ہے, لیکن جنابت کا باعث بنتا ہے اور جب بالغ ہوجائے تو غسل کرنا واجب ہے اور جب تک بلوغ کی نشانیوں میں سے کوئی ایک وجود میں نہ آئے شرعا اس پر بالغ ہونے کا حکم نہیں کیا جاسکتا ہے اور شرعی احکام پر وہ مکلف نہیں ہے۔ اور جو شخص بچپنے میں جماع کی وجہ سے مجنب ہوا ہے اور بالغ ہونے کے بعد غسل کئے بغیر  نماز پڑھا ہے یا روزہ رکھا ہے تو  نمازوں کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے لیکن جنابت کی نسبت لاعلم تھا تو روزوں کی قضا واجب نہیں ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.