روزہ رکھنے میں مشقت

اگر کوئی لڑکی سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکتی ہو اور نہ آنے والے رمضان تک ان کی قضا کی طاقت بھی نہ رکھتی ہو تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟

روزہ رکھنے میں مشقت

 

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

روزہ رکھنے میں مشقت

بلوغت کے ابتدائی ایام میں روزہ رکھنے سے ناتوانی

8. اگر کوئی لڑکی سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکتی ہو اور نہ آنے والے رمضان تک ان کی قضا کی طاقت بھی نہ رکھتی ہو تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟
ج۔ صرف کمزوری و ناتوانی کی وجہ سے  روزہ اور اس کی قضا نہ رکھ سکنا  قضا کو ساقط نہیں کرتی بلکہ اس پر ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔

 

9. اگر نو بالغ لڑکیوں پر روزہ  کسی حد تک شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیاں شرعا قمری نو سال پورے ہونے کے بعد بالغ ہوتی ہیں؟
ج۔ مشہور یہ ہے کہ قمری نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہو جاتی ہیں , اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور صرف کسی  معمولی عذر کی وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر روزہ  رکھنا ان کے لئے ضرر ہو یا  مشقت اور دشواری کے ساتھ رکھ سکتی ہو  تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔

 

10. اگر نو سالہ لڑکی جس پر روزہ واجب ہوچکا ہے  روزہ شاق ہونے کی وجہ سے توڑ دے تو کیا اس پر روزے کی قضا واجب ہے ؟
ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے اس نے توڑے ہیں ان کی قضا واجب ہے.

 

11. میں نے بالغ ہونے کے بعد  سے بارہ سال کی عمر تک جسمانی کمزوری کی وجہ سے  روزہ نہیں  رکھ سکی ہے۔ اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟
ج۔ سن بلوغ تک پہنچنے کے باوجود جو روزے نہیں رکھے ہیں انکی قضا بجا لائے ۔ اور اگر روزوں کو عمداً اور اختیار کے ساتھ کسی عذر شرعی کے بغیر ترک کئے ہیں تو  قضا کے علاوہ کفارہ بھی آپ پر واجب ہے۔

 

12.  جو شخص بلوغ کے  ابتدایی دنوں میں جسمانی  کمزوری اور  ناتوانی کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکا ہو تو کیا اس پر صرف قضا واجب ہے یا قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں ؟
ج۔  اگر روزہ رکھنا باعث حرج نہیں تھا  او رعمداً  روزہ توڑا ہو تو قضا کے علاوہ کفارہ بھی اس پر واجب ہے لیکن اگر اس خوف سےتوڑا ہو  کہ روزہ رکھنے سے کہیں مریض نہ ہوجائے تو اس صورت میں اس پر صرف قضا واجب ہے۔

 

دن میں مشقت کی وجہ سے روزہ توڑنا

13. اگر کوئی شخص اسکے پیشہ کی وجہ سے  پیاس یا بھوک اس کے لئے باعث مشقت ہو,  اس پیشہ کو بھی نہیں چھوڑ سکتا ہے۔ اور اسی طرح کمسن فراد جن کے لئے روزہ رکھنا بہت سخت ہے کیا ایسے لوگ دن کے آغاز میں ہی افطار کرسکتے ہیں یا انکا کوئی اور حکم ہے ؟
ج۔ سوال کے تناظر  میں جب بھی حرج اور مشقت درپیش ہوجائے تو افطار کرسکتے ہیں لیکن پیاس کے لئے احتیاط واجب یہ ہے ضرورت کی مقدار میں پیے اور باقی دن امساک کرے لیکن بعد میں کسی بھی  صورت میں روزے کی قضا  بجالائے۔

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.