چاند نظر آنے پر دو عادل کی گواہی

چاند نظر آنے پر دو عادل کی گواہی

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

چاند نظر آنے پر دو عادل کی گواہی

دو عادل  کو چاند نظر آنے پر  گواہی دینا

34. اگر چند عادل افراد گواہی دیں کہ دو عادل فرد نے چاند دیکھا ہے ؛ کیا اس سے ماہ رمضان یا شوال ثابت ہونگے؟

ج۔ نہیں, دو عادل خود شہادت دیں کہ چاند دیکھا ہے۔ لیکن اگر چاند دیکھنے کو بالواسطہ نقل کیا جائے تو کافی نہیں ہے؛ مگر اینکہ انکے کہنے پر رویت ہلال کی نسبت اطمینان حاصل ہوجائے.

 

رویت ہلال میں گواہوں کے درمیان اختلاف

35. اگر ایک شہر کے علماء کے درمیان رویت ہلال  ثابت ہونے اور ثابت نہ ہونے  میں اختلاف ہو جائے اور مکلف کی نظر میں دونوں گروہ کے علماء عادل اور قابل اعتماد ہوں اور ہر ایک کی دلیل پر دقت کرنے کے حوالے سے بھی مطمئن ہوجائے تومکلف کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگردو شہادتوں میں  اختلاف  نفی اور اثبات کی شکل میں ہو یعنی بعض چاند کے ہونے کا ادعا کرے اور بعض چاند نہ ہونے کا ادعا کرے, ایسی صورت میں چونکہ دونوں شہادتیں ایک دوسرے سے متعارض ہیں  اور ساقط ہونگی اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ دونوں شہادتوں کو چھوڑ کر افطار کرنے یا روزہ ررکھنے کے بارے میں  اصول کے مطابق عمل کرے۔
 لیکن اگر اختلاف ثبوت رویت ہلال اور ثابت ہونے پر علم نہ ہونے کے درمیان ہو یعنی بعض کہیں کہ چاند دیکھا ہے اور بعض کہیں کہ چاند نہیں دیکھا ہے۔ تو اگر رویت کے مدعی دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دلیل اور حجت شرعی ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کرے اسی طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ہلال کا حکم دیا ہو تو اس کا حکم بھی تمام مکلفین کے لئے شرعی حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کریں.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.