طبیب کی طرف سے ممانعت

طبیب کی طرف سے ممانعت

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

 

طبیب کی طرف سے ممانعت

طبیب کی طرف سے روزہ کی ممانعت کا معیار

173. اگرطبیب کسی کو روزہ رکھنے سے منع کرے جبکہ بعض اطباء مسائل شرعیہ سے ناواقف  ہیں ,  تو کیا ان کی تجویز پر عمل کرنا واجب  ہے؟
ج۔ اگر مریض کو ڈاکٹر کے کہنے پر  اطمینان حاصل ہو جائے کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے  یا اس کے کہنے پر یا کسی معقول وجہ کی بنا پر اسے مضر ہونے کا خوف حاصل ہوجائے تو اسے روزہ رکھنا واجب نہیں , بلکہ جائز نہیں ہے.

 

غیر امین طبیب کا روزہ رکھنے سے منع کرنا

174. بعض ایسے  ڈاکٹر جو شرعی مسائل کے پابند نہیں ہیں,  مریض کو  مضر ہونے کی دلیل  کی وجہ سے روزہ سے روکتے ہیں کیا  ایسے ڈاکٹروں کا قول حجت ہے یا نہیں ؟
ج۔ اگر ڈاکٹر امین  نہیں ہے اور اس کا قول  اطمینان آور  بھی نہیں ہے اور نہ ہی روزوں سے ضرر کا خوف ہے تو ایسی صورت میں اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا, لیکن بصورت دیگر روزہ نہیں رکھنا چاہئے.

 

طبیب کی ممانعت کے باوجود روزہ رکھنا

175. آنکھوں کے ڈاکٹر نے مجھے روزہ رکھنے سے منع کیا اور کہا ہے کہ تمہاری آنکھ میں جو مرض ہے , اس کی وجہ سے  کسی صورت میں تمہیں روزہ  نہیں رکھنا چاہئے۔ لیکن میں نے انکی بات پر توجہ دئے بغیر روزہ رکھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ماہ رمضان میں  مجھے مشکلات پیش آئیں اور بعض دنوں میں  عصر کے وقت تکلیف شروع ہو جاتی ہے, لہذا اب  اس شک و تردید کی حالت میں ہوں کہ روزہ توڑ دوں یا تکلیف کو مغرب تک برداشت کروں اور روزہ  رکھوں ,  اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے؟ اور جن ایام میں روزہ رکھتا ہوں لیکن نہیں جانتا ہوں کہ مغرب تک روزہ رکھ پاؤں گایا نہیں, تو کیا روزے کی حالت میں باقی رہوں؟ اور یہ کہ میری نیت کیا ہونی چاہئے؟
ج۔ اگر متدین اور امین ڈاکٹر کے کہنے پر آپ کو اطمینان حاصل ہو جائے کہ روزہ آپ کی آنکھوں کے لئے باعث ضرر ہے یا  ضرر کا خوف ہے تو ایسی صورت میں روزہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ روزہ رکھنا جائز ہی نہیں ہے اور ضرر کے خوف کے ساتھ روزہ کی نیت کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اور اگر ضرر کا خوف نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن آپ کا روزہ اسی وقت صحیح ہو گا جب واقعی ضرر نہ پایا جاتا ہو.

 

176. گزشتہ سال میں نے اپنے گردوں کا آپریشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے کرایا اور اس نے مجھے تا حیات روزہ رکھنے سےمنع کیا,لیکن فی الحال میں معمول کے مطابق کھاتا پیتا ہوں اور کسی قسم کا احساس مرض اور درد اپنے میں نہیں پاتااور بیماری کے کوئی اثرات بھی نہیں پاتا  اس وقت میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟
ج۔ اگر آپ اپنے تئیں روزہ رکھنے میں  ضررکا خوف نہیں محسوس کرتے اور اس پرحجت  شرعی بھی نہیں پاتے تو آپ پر  واجب ہے کہ رمضان کا روزہ رکھے.

 

طبیب کے کہنے پر روزہ نہ رکھنا اور کشف خلاف ہونا

177. اگر ڈاکٹر مریض سے کہے کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے اور وہ بھی روزہ نہ رکھے, لیکن چند سال کے بعد معلوم ہوجائے کہ روزہ اس کے لئے مضر نہیں تھااور ڈاکٹر نے اپنی تشخیص میں اشتباہ کیا ہے, کیا اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے؟
ج۔ اگر حاذق اور امین ڈاکٹر کے کہنے سے یا کسی اور معقول وجہ سے ضرر کا ڈر حاصل ہوجائے جسکی وجہ سے روزہ نہ رکھے, تو فقط قضا اس پر واجب ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.