روزہ کے لئے ارتکازی نیت  کافی ہونا

روزہ کے لئے ارتکازی نیت  کافی ہونا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

روزہ کے لئے ارتکازی نیت  کافی ہونا

 

51. ایک شخص رات کو روزے کی نیت کرکے  سوجائے اور صبح کی اذان کے بعد بیدار ہوجائے اور بھول کر پانی پئے  اور بعد میں یاد آئے کہ رات میں روزے کی نیت کی تھی, تو کیا اس صورت میں اسکا روزہ صحیح ہے؟

ج۔ بھول کر افطار کرنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا ہے اور سابقہ نیت گرچہ ارتکازی تھی اپنی جگہ باقی ہے اور وہی نیت کافی ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.