نیت کے متفرقہ مسائل

نیت کے متفرقہ مسائل

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

نیت کے متفرقہ مسائل

سحری  کو بیدار نہ ہونا

64. اگر رات کی ابتدا میں کل کے دن روزہ رکھنے کی نیت کرکے سوجائے اورصبح کی اذان کے بعد تک جاگ نہ سکے یا کسی کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے صبح ہونے کا پتہ نہ چلے تو اسکا روزہ صحیح ہے.

 

65. رات  کو قصد کیا تھا کہ کل روزہ رکھونگا لیکن سحری کے لئے بیدار نہ ہوسکا اور طلوع آفتاب کے قریب بیدار ہوا, تو کیا میرا روزہ صحیح ہے؟

ج۔ روزہ صحیح ہے.

 

مختلف روزوں کی ایک ساتھ نیت 

66. اگر میرے ذمے ماہ مبارک رمضان کا قضا اور واجب نذر دونوں کے روزے ہوں اور  پیامبر اکرم کی ولادت باسعادت کے دن روزہ رکھا تو کیا روزہ صحیح ہونے کے لئے نیت معین کرنا لازمی ہے ؟

ج۔ اگر آپ کے ذمے مختلف روزے  جیسے قضا, کفارہ, نذر  وغیرہ ہو تو جس روزے کو رکھنا چاہتے ہو اس کو معین کرنا  واجب ہے۔اور جس کے ذمے ماہ مبارک رمضان کے قضا روزے ہو اسکا مستحب روزہ صحیح نہیں ہے.

 

ماہ رمضان میں دن کے وقت مریض کا صحتیاب ہونا

67. جو مریض ماہ رمضان  میں دن کے وقت شفا پاتا ہے  اسکے روزہ کی نیت کیسے ہوگی؟

ج۔ مریض اگر دن کے دوران صحت یاب ہوجائے توروزہ کی نیت کرنا  اور اس دن روزہ رکھنا اس پر  واجب نہیں  ہے, لیکن اگر ظہر سے پہلے ٹھیک ہوجائے اور مبطلات روزہ کا بھی مرتکب نہیں ہوا ہے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ نیت کرکے روزہ رکھے اور ماہ رمضان کے بعد اس دن کا قضا  رکھنا بھی ضروری ہے.

 

یو م  شک اور نیت

68. جس دن انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ, تو اس دن کس نیت سے روزہ رکھے گا؟

ج۔ جس دن انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ ( یوم الشک), تو اس دن روزہ رکھنا واجب نہیں ہے , اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو رمضان کے روزہ کی نیت نہیں کرسکتا بلکہ شعبان کی آخری  تاریخ کا مستحب روزہ ,یا قضا وغیرہ کی نیت کرے, اور بعد میں اگر پتہ چل جائے کہ اس دن رمضان کی پہلی تاریخ تھی تو وہی رمضان کا روزہ حساب ہوگا اور قضا رکھنا لازمی نہیں, اور اگر دن کے کسی وقت معلوم ہوجائے کہ ماہ رمضان کی پہلی ہے تو اس وقت رمضان کے روزہ کی نیت کرنا ضروری ہے.

 

ما فی الذمہ روزہ

69. اگر کسی کو قضا روزہ اسکے ذمہ ہونے کا علم نہ ہو تو کیا وہ ما فی الذمہ روزہ رکھ سکتا ہے؟ یعنی اس نیت سے روزہ رکھے کہ اگر اس کے ذمے قضا ہو تو اسکی قضا بجالائے  اور اگر قضا نہ ہو تو مستحب روزہ حساب ہوجائے؟

ج۔ جی ہاں۔ اس نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے.

 

70. میں نے تقریبا ایک مہینہ اس نیت سے روزہ رکھا ہے کہ اگر میرے ذمے کوئی قضا  روزہ ہو تو وہ حساب ہوجائے اور اگر قضا روزہ میرے ذمے نہ ہو تو قربت الی اللہ ہو, کیا اس ایک مہینے کے روزے میرے وہ  قضا روزے حساب ہونگے جو  میرے ذمہ ہیں؟

ج۔  روزہ رکھتے وقت اگر اس نیت سے روزہ رکھے  کہ  شرعا جس چیز پر آپ مامور تھے  خواہ وہ  روزہ قضا ہو یا مستحب   , تو  آپ کے ذمے قضا روزے بھی  ہو  تو یہ آپکے قضا روزے حساب ہونگے.

 

استیجاری روزہ رکھنے کے بعدنیت میں تبدیلی

71. استیجاری زوروں میں,  روزہ رکھنے کے بعد موجر اجرت دینے سے انکار کرے تو  کیا مستاجر ان انجام دیے گئے روزے اور نمازوں کو کسی اور شخص کے لئے حوالہ کرسکتا ہے؛ یعنی نیت کرے کہ جو کچھ بجالایا ہے وہ کسی اور شخص کی قضا  کے بدلے ہوجائے؟ اور بنیادی طور پر , کس شخص  کا روزہ رکھ رہا ہے اسکو پہلے معین کرنا ضروری ہے؟ یا نماز اور  روزہ بجا لانے کے بعد اس کو معین کیا جا سکتا ہے؟

ج۔ ضرور ی ہے نیت پہلے معین ہوجائے ۔ اور کسی کے لئے نیت کر کے انجام دینے کے بعد وہ عمل کسی اور کو حوالہ نہیں کیا جاسکتا ہے, مذکورہ سوال کی روشنی میں جس کی نیابت میں عمل انجام پایا ہے وہ شخص برائ الذمہ ہوگا اور موجر کے لئے ضروری ہے کہ اپنا قرض ادا کرے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.