غسل کے وجوب اور کیفیت کے بارے میں جاہل شخص کا روزہ

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

غسل کے وجوب اور کیفیت کے بارے میں جاہل شخص کا روزہ

 

126. ایک جوان نادانی کی وجہ سے چودہ سال کی عمر سے پہلے اور اس کے بعد بھی استمناء کرتا رہا  جس کی وجہ سے اس سے منی خارج   ہوتی تھی لیکن منی خارج ہونےسے غسل واجب ہونے کو نہیں جانتا تھا , اسکا وظیفہ کیا ہے؟کیا جس مدت میں استمناء کرتا رہا تھا اور منی خارج ہوتی تھی اس کے لئے غسل واجب ہے؟ اور جو نمازیں اور روزے  گزشتہ سے اب تک جو جنابت کی حالت میں انجام پائے ہیں کیا وہ باطل اور انکی قضا واجب ہے؟

ج۔ اب تک اگر غسل نہیں کیا ہے تو جتنی بار بھی منی خارج ہوئی ہے سب کے لئے ایک ہی غسل کافی ہے اور تمام وہ نمازیں جو جنابت کی حالت میں پڑھنے کایقین ہو تو قضا کرے  اور اگر استمناء ماہ رمضان کی راتوں کو انجام پایا ہے اور  خودجنابت کے بارے میں اسے علم نہ ہو تو اسکے روزوں کی قضا واجب نہیں ہےاور صحیح ہونے کے حکم میں ہیں۔لیکن اگر خروج منی اور جنابت کا علم تو ہو لیکن  روزہ صحیح ہونے کے لئے غسل واجب ہونے کے بارے میں  اسے علم نہیں ہو  تو تمام ان روزوں کی قضا بجا لائے جو جنابت کی حالت میں رکھا ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.