طبیب کی ممانعت کے باوجود روزہ رکھنا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

طبیب کی ممانعت کے باوجود روزہ رکھنا

 

175. آنکھوں کے ڈاکٹر نے مجھے روزہ رکھنے سے منع کیا اور کہا ہے کہ تمہاری آنکھ میں جو مرض ہے , اس کی وجہ سے  کسی صورت میں تمہیں روزہ  نہیں رکھنا چاہئے۔ لیکن میں نے انکی بات پر توجہ دئے بغیر روزہ رکھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ماہ رمضان میں  مجھے مشکلات پیش آئیں اور بعض دنوں میں  عصر کے وقت تکلیف شروع ہو جاتی ہے, لہذا اب  اس شک و تردید کی حالت میں ہوں کہ روزہ توڑ دوں یا تکلیف کو مغرب تک برداشت کروں اور روزہ  رکھوں ,  اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے؟ اور جن ایام میں روزہ رکھتا ہوں لیکن نہیں جانتا ہوں کہ مغرب تک روزہ رکھ پاؤں گایا نہیں, تو کیا روزے کی حالت میں باقی رہوں؟ اور یہ کہ میری نیت کیا ہونی چاہئے؟

ج۔ اگر متدین اور امین ڈاکٹر کے کہنے پر آپ کو اطمینان حاصل ہو جائے کہ روزہ آپ کی آنکھوں کے لئے باعث ضرر ہے یا  ضرر کا خوف ہے تو ایسی صورت میں روزہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ روزہ رکھنا جائز ہی نہیں ہے اور ضرر کے خوف کے ساتھ روزہ کی نیت کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اور اگر ضرر کا خوف نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن آپ کا روزہ اسی وقت صحیح ہو گا جب واقعی ضرر نہ پایا جاتا ہو.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.