صبح کی اذان تک جنابت پر باقی رہنا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

صبح کی اذان تک جنابت پر باقی رہنا

101. جو شخص ماہ  رمضان کی رات میں مجنب ہو اسے چاہئے کہ صبح کی اذان سے پہلے غسل کرے, اگر جان بوجھ کر اسوقت تک غسل نہ کرے تو روزہ باطل ہے, یہی حکم ماہ رمضان کے قضا روزوں میں بھی جاری ہے گرچہ عمداً نہ ہو.

 

102. اگر ماہ رمضان کی رات میں جنب ہوجائے اور بغیر عمد کے  صبح تک غسل نہ کرے مثلا نیند کی حالت میں جنب ہوجائے اور اذان کے بعد تک جاگ نہ سکے تو اسکا روزہ صحیح ہے.

 

103. اگر کوئی شخص بیداری میں جنب ہوجائے یا نیند میں جنب ہونے کے بعد بیدار ہوجائے اور جانتا ہے  دوبارہ  سوجائے  تو صبح کی اذان تک غسل کے لئے بیدار نہ ہوسکتا ہے تو غسل کے بغیر سونا جائز نہیں ہے اور اگر اذان سے پہلے غسل کئے بغیر سوجائے تو روزہ باطل ہے  لیکن اگر یہ احتمال دیتا ہے کہ صبح کی اذان سے پہلے غسل کرنے بیدار ہوجائے گا اور غسل کرنے کا قصد بھی رکھتا ہے لیکن بیدار نہ ہوسکے تو اسکا روزہ صحیح ہے, اور اگر دوسری مرتبہ بیدار ہونے کے بعد پھر سوجائے  اور صبح تک بیدار نہ ہوسکے تو اس دن کی قضا رکھنا ضروری ہے.

 

104. جس شخص کا وظیفہ یہ ہے کہ ماہ رمضان کی رات میں غسل کرے لیکن وقت تنگ ہونے کی وجہ سے یا پانی مضر ہونے کی وجہ  سے یا  اس جیسے دیگر وجوہات کی وجہ سے غسل نہ  کرسکے تو غسل کے بدلے تیمم کرنا لازمی ہے.

 

105. روزے کی حالت میں اگر نیند میں جنب ہوجائے تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے.

 

106. اگر روزہ دار ماہ رمضان یا دوسرے دنوں میں روزے سے ہو اور نیند میں جنب ہوجائے تو بیدار ہونے کے بعد فورا ً غسل کرنا واجب نہیں ہے.

 

107. جو عورت اپنی ماہانہ عادت سے یا نفاس سے پاک ہوئی ہے اس  پر غسل واجب ہے اور اگر غسل کو صبح کی اذان تک تاخیر کرے تو اس دن کا روزہ باطل ہے.

 

108. روزے کی حالت میں اگر عورت ماہانہ عادت کا یا نفاس کا خون دیکھے  تو اس کا روزہ باطل ہوتا ہے.

 

ماہ رمضان کی رات میں غسل ناممکن ہونے کے باوجود عمداً جنابت کرنا

109. جس شخص کے پاس پانی نہ ہو یا  وقت کی کمی کے علاوہ کوئی اور عذر کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکتا ہو تو کیا ماہ مبارک کی راتوں میں عمداً اپنے کو حلال طریقے سے مجنب کرسکتا ہے؟
ج۔اگر اسکا فریضہ تیمم ہو اور اپنے کو مجنب کرنے کے بعد تیمم کے لئے وقت بھی کافی ہو تو اس کے لئے خود کو مجنب کرنا جائز ہے.

 

جان بوجھ کر غسل کو ترک کرکے آخر وقت میں تیمم کرنا

110. کوئی شخص صبح کی اذان سے پہلے   جب بیدار ہوا تو خود کو محتلم پایا, کیا یہ شخص غسل کو  اذان کے نزدیک ہونے تک انجام نہ دیکر غسل کے بدلے تیمم کرسکتا ہے؟
ج۔ اگر غسل کو اتنا تاخیر کرے یہاں تک کہ غسل کے لئے وقت کافی نہ ہوتو گناہ کیا ہے,  اور اذان سے پہلے تیمم کرنا لازمی ہے اور روزہ اسکا صحیح ہے.

 

111. اگر مجنب شخص ماہ رمضان میں جان بوجھ کر غسل نہ کرے اور غسل کے لئے وقت تنگ ہونے کے بعد تیمم کرکے صبح کرے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟
ج۔ اگرچہ اسکا روزہ صحیح ہے لیکن سوال کے مفروضہ میں وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے.

 

صبح کی اذان تک غسل جنابت سے غفلت کرنا

112. ماہ رمضان یا دوسرے ایام کے روزوں کے لئے غسل جنابت انجام دینا بھول جائے اور دن کے کسی وقت یاد آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج۔ ماہ رمضان کے روزوں میں اگر طلوع فجر تک غسل کرنا بھول جائے اور جنابت کی حالت میں صبح کرے تو اسکا روزہ باطل ہے اور احوط یہ ہے ماہ رمضان کے قضا روزے بھی اس حکم میں شامل ہیں, لیکن دوسرے روزوں میں روزہ باطل نہیں ہوتا ہے.

 

صبح کی اذان سے پہلے احتلام سے غافل رہنا

113. ایک شخص رمضان کی راتوں میں اذان صبح سے پہلے بیدار ہوا اور احتلام هونے کا پتہ نہیں چلا اور پھر سے سوگیا۔ اذان کے درمیان آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو محتلم پایا اور یہ بھی یقین ہے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا ہے تو ایسی صورت میں روزہ کا کیا حکم ہے؟
ج۔ اگر اذان سے قبل اپنے احتلام کی طرف متوجہ نہیں تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے.

 

ماہ رمضان کی رات میں احتلام میں شک ہونا

114. اگر مکلف ماہ  رمضان میں فجر سے پہلے  احتلام ہونے میں شک کرے اور اپنی شک کو اہمیت نہ دیتے ہوئے دوبارہ سوجائے اذان صبح کے بعد جب اٹھے تو  معلوم  ہوا کہ اذان سے پہلے محتلم ہوا تھا تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟
ج۔  اگر پہلی مرتبہ اٹھنے کے بعد احتلام  کے آثار نظر نہ آئےاور کوئی چیز واضح نہیں ہوئی  اور صرف  احتلام ہونے کا احتمال تھا اور اذان کے بعد  تک سوتا رہےتو ایسی صورت میں روزہ صحیح ہے گرچہ  بعد میں یہ ثابت کیوں نہ ہو جائے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا تھا.

 

جنابت کی حالت میں صبح تک رہتے ہوئے روزہ رکھنا

115. اگر کوئی شخص بعض مشکلات کی وجہ سے صبح کی اذان تک غسل جنابت پر باقی رہے تو کیا اس دن روزہ رکھنا اس کے لئے جائز ہے؟
ج۔ رمضان کے علاوہ کسی اور روزے یا اس کی قضا میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن ماہ  رمضان کے روزے کے بارے میں تفصیل ہے اگر  کسی عذر کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکے تو تیمم واجب ہے, اور اگر تیمم بھی نہیں کیا تو روزہ صحیح  نہیں ہے.

 

116. اگر مجنب قضا یا مستحب روزہ رکھنا چاہتا ہو تو کیا اس کے لئے طلوع آفتاب کے بعد غسل جنابت جائز ہے؟
ج۔ اگر عمداً غسل جنابت نہیں کیا اور صبح ہو گئی تو رمضان کا روزہ اور اس کی قضا صحیح نہیں ہے اور دوسرے روزے خاص کر مستحب روزہ میں  تو اقویٰ یہ ہے کہ وہ صحیح ہے.

 

مجنب صبح کی اذان تک سونا

117. اگر مکلف ماہ رمضان کی رات میں صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہوجائے اور اپنے کو محتلم پائے اور دوبارہ اس امید سے سوجائے کہ اذان سے پہلے غسل کرنے  کے لئے بیدار ہوجائے گا, اور سورج طلوع ہونے تک سوتا رہے اور غسل کو اذان ظہر تک تاخیر کرے اور ظہر کی اذان کے بعد غسل کرکے نماز ظہر اور عصر پڑھے  تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟
ج۔ سوال کے مفروضہ میں پہلی نیند ہے اور اس کا روزہ صحیح ہے لیکن اگر دوبارہ سوجائے  اور صبح تک بیدار نہ ہوسکے تو اس دن کی قضا بجا لائے. 

 

118. گزشتہ سال ماہ رمضان میں سحری کے وقت مجھ پر غسل  جنابت واجب ہوگیا اور جب بیدار ہوا تو سوچا کہ وقت تنگ ہونے تک صبر کروں اور اسوقت غسل کے بدلے تیمم کروں گا لیکن نیند آئی اور بیدار نہ ہوسکا, میرے لئے کیا حکم ہے؟
ج۔ اگرچہ آخر وقت میں اپنے وظیفہ پر عمل کرنا چاہتے تھے لیکن اس دن کی قضا واجب ہےہاں اگر آپکا وظیفہ ہی تیمم تھا اور فجر سے پہلے تیمم کرنے کا قصد بھی رکھتے تھے  لیکن نیند آنے کی وجہ سے نہ کرسکے تو پہلی نیند میں روزہ صحیح ہے.

 

واجب غسل کے دوران اذان دینا

119. مجنب شخص اذان کے قریب بیدار ہوجائے اور غسل شروع کرے لیکن غسل تمام ہونے سے پہلے صبح کی اذان دی جائے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟
ج۔ اگر اس علم یا گمان کے ساتھ غسل شروع کرے کہ غسل کے لئے وقت کافی ہےتو اسکا روزہ صحیح ہے.

120. اگر میں صبح کی اذان سے پہلے غسل شروع کروں لیکن غسل کے دوران صبح کی اذان کا وقت  ہوجائے , (مثلا جب سر  یا گردن یا دائیں طرف کو دھو رہا تھا  تو اذان شروع ہوجائے) تو کیا میرا روزه صحیح هے؟
ج۔ اگر غسل کے لئے وقت کافی ہونے کا یقین تھا تو آپکا روزہ صحیح ہے.

 

شرم کی وجہ سے غسل ترک کر کے جنابت پر باقی رہنا

121. ہم ایک ٹھنڈے علاقے میں رہتے ہیں جہاں نہ حمام ہے اور نہ ہی غسل کے لئے کوئی جگہ, جب ماہ رمضان میں جنابت کی حالت میں بیدار ہوتے ہیں اور چونکہ ہمارے ہاں آدھی رات کو لوگوں کے حضور ایک جوان کا مشک یا حوض کے پانی سے غسل کرنے کو عیب سمجھا جاتا ہے اور اس وقت پانی بھی ٹھنڈا ہے تو ہمارے لئے کل کے روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
ج۔ فقط غسل کرنا سخت ہونے یا عیب سمجھا جانے کو عذر شرعی نہیں کہا جاسکتا ہے, بلکہ جب تک غسل ضرر یا حرج کی حد تک نہ پہنچے, کسی بھی صورت میں غسل کرنا واجب ہے, اور حرج یا ضرر کی صورت میں طلوع فجر سے پہلے تیمم کرنا لازمی ہےا ور فجر سے پہلے  غسل  جنابت کے بدلے تیمم کرے تو روزہ صحیح ہے اور اگر تیمم نہ کرے تو روزہ باطل ہوگالیکن پھر بھی سارا دن  مبطلات روزہ سے پرہیز کرنا واجب ہے.

 

122. ایک شخص ماہ رمضان میں کہیں مہمان ہوا اور  آدھی رات کووہاں  احتلام ہو گئے چونکہ وہاں مہمان  تھے اس لئے  زائد لباس نہیں تھا لہذا روزے سے بچنے کے لئے طلوع فجر کے بعد سفر کرنے کا ارادہ کر لیا اور طلوع فجر کے بعد کچھ کھائے پئے بغیر سفر پر نکل پڑے اب سوال یہ ہے کہ قصد سفر اس شخص کو کفارہ سے بچا سکتا ہے یا نہیں ؟
ج۔ اگر جنابت کی حالت میں بیدار ہوجائے اور مجنب ہونے پر علم  رکھتا ہے اور فجر سے پہلے غسل یا تیمم کا اقدام نہیں کیا تو پھر  صرف رات میں قصد سفر کرنا یا  دن میں سفر کرنا کفارہ ساقط ہونے کے لئے کافی نہیں ہے.

 

123. میں ماہ رمضان کے کچھ دنوں کسی رشتہ دار کے  گھر رہا اور زکام, شرم و حیاء کی وجہ سے غسل جنابت کے بدلے تیمم کرنے پر مجبور ہوا  اور ظہر تک غسل نہیں کرسکا۔ چند دنوں  تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ تو کیا  ان دنوں  میں میرے  روزے صحیح ہیں یا نہیں؟
ج۔ روزے کے دن طلوع فجر سے پہلے غسل جنابت نہ کرنا, اور اس کے بدلے تیمم کرنا۔ اگر یہ عذر شرعی کی وجہ سے تھا یا آپ نے آخر وقت میں وقت تنگ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تھا تو اس تیمم کے ساتھ آپ کا روزہ صحیح تھا اور اگر ایسا نہیں تھا تو ان دنوں میں آپ کے روزے باطل ہیں.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.