شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد ماہ رمضان کے یکم کا حکم ہوتا ہے  اگرچہ ماہ رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو

شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد ماہ رمضان کے یکم کا حکم ہوتا ہے  اگرچہ ماہ رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے طریقے

 

15. میرے محل سکونت میں چاند دیکھے بغیر  صرف شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد جمعہ کو ماہ رمضان کا یکم اعلان کیا گیاہے جبکہ شعبان کی پہلی تاریخ بھی تحقیق کے ساتھ معلوم نہ تھی  لہذا استدعا کی جاتی ہے کہ مجھ حقیر اور دیگر دوستوں  کے لئے شب قدر کی بابرکت راتوں سے استفادہ کرنے اور روزانہ کی دعائیں پڑھنے , اور بعض دیگر دنوں اور راتوں  کی مخصوص 
اعمال  کے بارے میں حکم معین فرمائیں.

ج۔ شعبان کے تیس دن گزرنے کے بعد ماہ رمضان کے یکم کا حکم ہوتا ہے  اگرچہ ماہ رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو بشرطیکہ شعبان کی پہلی تاریخ شریعی طریقے سے ثابت ہوچکی ہو وگرنہ تیس دن گزرنا معیار نہیں ہوگا۔ شب قدر کی راتیں ایک استمراری وجود کی حامل ہیں ,  شب قدر اور ماہ رمضان کے مخصوص اوقات کی دعاوں کی فضیلت کا حصول ,  اگر مکلف کو زمان کی خصوصیت
معلوم نہ ہوجائے  تو احتیاط  اور عمل کے تکرار سے وہ فضیلت حاصل کرسکتا ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.