سر کو پانی میں ڈبونا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

سر کو پانی میں ڈبونا

153. اگر روزہ دار عمداً سر کو پانی میں ڈبوے تو احتیاط واجب کی بناپر اسکا روزہ باطل ہے اور اس دن کے روزے کی قضا لازمی ہے.

 

154. پچھلے مسئلے کے حکم میں فرق نہیں کہ سر پانی میں ڈبوتے ہوئے بدن بھی پانی میں ہو یا بدن پانی سے باہر ہو اور صرف سر کو پانی میں ڈبو دے.

 

155. اگر آدھے سر کو پانی میں ڈبونے کے بعد باہر نکالے اور  پھر سر کا دوسرا حصه پانی میں ڈبوئے تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے.

 

156. اگر پورا سر پانی میں اندر چلا جائے اور صرف سر کے کچھ بال باہر رہے تو روزہ باطل ہوتا هے.

 

157. اگر شک کرے کہ پورا سر پانی میں ڈوبا ہے یا نہیں تو روزہ صحیح ہے.

 

158. اگر روزہ دار بغیر اختیار کے پانی میں گر پڑے اور پورا سر پانی کے اندر چلا جائے تو اسکا روزہ باطل نہیں ہے لیکن سر کو فورا پانی سے باہر نکالے, اسیطرح اگر روزے سے ہونے کو بھول کر سر کو پانی میں ڈبو دے تو اسکا روزہ باطل نہیں ہوگا لیکن جب بھی یاد آئے فورا سر کو پانی سے باہر نکالنا چاہئے.

 

سر کو مضاف پانی میں ڈبونا

159. کیا سر کو مضاف پانی میں ڈبونے سے روزہ باطل ہوتا ہے؟
ج۔ روزہ باطل نہیں ہوتا ہے, لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ گلاب کے پانی میں سر کو نہ ڈبوئے.

 

غوطہ خوروں کے لباس کے اندر سر  کو پانی میں ڈوب جانا 

160. اگر کوئی شخص مخصوص لباس (ڈائیونگ سوٹ) پهن کر بغیر اسکے کہ بدن گیلا ہوجائے پانی میں چلا جائے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟
ج۔ اگر لباس اس کے سر سے چپکے ہوئے ہوں تو روزہ  صحیح ہونے میں اشکال ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر قضا لازم ہے.

 

سر پر پانی ڈالنا

161. اگر روزہ دار کے مسوڑھے سے کافی مقدار میں خون خارج ہو تو کیا اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اور کیا وہ کسی برتن سے اپنے سر پر پانی ڈال سکتا ہے ؟
ج۔ جب تک خون نگلا نہ جائے تو صرف خون نکلنے سے  روزہ باطل نہیں ہوتا ہے, اسی طرح برتن وغیرہ سے سر پر پانی ڈالنے سے بھی اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا.

 

روزہ دار کا بھول کر غسل ارتماسی کرنا

162. اگر روزہ دار اذان ظہر سے قبل تک متوجہ نہ ہو کہ مجنب ہوا ہے پھر اس کے بعد غسل ارتماسی کر ڈالے تو کیا اس سے روزہ باطل ہو جائے گا؟ اور اگر غسل  کے بعد متوجہ ہو کہ وہ روزے کی حالت میں غسل ارتماسی کرچکا ہے تو کیا اس پر روزے کی قضا واجب ہے؟
ج۔ اگر روزے کی حالت میں غفلت و فراموشی کی بنا پر غسل ارتماسی کر لی ہو تو اس کا روزہ اور غسل صحیح ہے اور اس پر روزہ کی قضا واجب نہیں ہے.

 

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.