رویت ہلال پر اطمینان حاصل ہونا

رویت ہلال پر اطمینان حاصل ہونا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

رویت ہلال پر اطمینان حاصل ہونا

ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے رویت ہلال کا اعلان 

36. اگر کسی شہر میں چاند نظر نہ آئے لیکن ٹیلی ویژن اور ریڈیو  رویت ہلال کی خبر دے تو کیا یہی کافی ہے یا مزید تحقیق کرنا واجب ہے؟

ج۔ اگر چاند ثابت ہونے پر اطمینان حاصل ہوجائے یا ولی فقیہ کی طرف سے ثبوت ہلال پر حکم صادر ہوجائے تو  یہی کافی ہے اور مزید تحقیق کی ضرورت نہیں ہے.

 

دوسروں کے کہنے پر رویت ہلال کے بارے میں گمان ہونا

37. بعض لوگوں کے کہنے پر کل عید ہونے کے بارے میں گمان حاصل ہوجائے تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟

ج۔ کل عید اور شوال کی پہلی تاریخ  ہونے کے بارے میں جبتک اطمینان حاصل نہ ہوجائے , روزہ افطار نہیں کرسکتے ہیں.

 

نجوم کے محاسبات کے صحیح ہونے پر اطمینان حاصل ہونا

38. اگر چاند کے تولد اور غیر مسلح آنکھوں سے رویت ممکن  ہونے کے بارے میں علم نجوم کے محاسبات کے صحیح ہونے پر اطمینان  حاصل ہوجائے تو ماہ رمضان کے ثبوت یا عید کے ثابت ہونے کے لئے اس اطمینان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ بالخصوص اگر یہ بات ماہرین نجوم اوراس فن کے  اھل خبرہ کی طرف سے صادر ہوئی ہو.

ج۔ فقط نجوم کے محاسبات  صحیح ہونے پر اطمینان حاصل ہونا معتبر نہیں  ہے لیکن اگر چاند قابل رویت ہونے پر اطمینان حاصل ہوجائے تو ایسے شخص کو چاہئے کہ اپنے علم اور اطمینان پر اثر مترتب کرے.

 

رویت ہلال میں غیر اسلامی ملک کی اتباع کرنا

39. اگر کسی ملک کا رویت ہلال کے اعلان کی اتباع جائز ہو اور وہ اعلان دوسرے ممالک کے لئے ہلال کے ثابت ہونے پر ایک علمی معیار تشکیل دے , تو کیا اس حکومت کا اسلامی ہونا شرط ہے یا  حکومت ظالم اور فاجر ہو بھی تو اس پر عمل ممکن ہے؟

ج۔ اس مورد میں معیار  یہ ہے کہ ایسے علاقے میں رویت ہلال ہونے پر اطمینان حاصل ہوجائے جو مکلف کے لئے کافی ہو.

 

رویت ہلال میں اہل سنت کی پیروی  کرنا

40. کیا دسویں ذی الحجہ (عید قربان)کا دن معین کرنے کے لئےسعودی عرب کی تبعیّت کرنا واجب ہے یا اس مسئلے میں انکی مخالفت کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اہل سنت کے قاضی کے ہاں چاند ثابت ہونے  اور اسکا رویت پر حکم  کے مطابق حاجیوں کا اعمال انجام دینا کافی ہے.

 

بعد والی راتوں میں چاند کی خصوصیات کو دیکھ کر پہلی تاریخ معین کرنا

41. کیا چاند کے چھوٹا , باریک ہونا اور اس میں پہلی رات کے دوسرے صفات  پائے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پہلی (چاند رات ) کا چاند ہے اور  جو دن گزر گیا ہے وہ یکم نہیں بلکہ  گزشتہ مہینے کی تیسویں تھیں ؟ اگر کسی کے لئے عید ثابت ہوجائے اور  یقین کر لے کہ گزشتہ روز عید نہیں بلکہ تیسویں رمضان المبارک تھی , کیا اس دن کے روزے کی قضا کرے گا ؟

ج۔ چاند کا صرف چھوٹا ہونا, نیچے ہونا, بڑا ہونا, انچا ہونا یا چوڑا یا باریک ہونا پہلی رات یا دوسری  رات کے چاند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن اگر مکلف کو ان علائم سے علم و یقین حاصل ہو جائے تو اس وقت اپنے علم کی روشنی میں عمل کرنا واجب ہے.

 

42. کیا چودھویں کے چاند کو اول ماہ کی تعیین میں قرینہ قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ چودھویں کی رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اس طرح یوم شک کی تعیین ہو جائے گی کہ مثلا  تیسویں رمضان ہے  اور ماہ رمضان کے دن کے احکام مترتب ہونگےمثلا  جس نے گواہوں کی گواہی کے بنا پر اس دن روزہ نہیں رکھا ہے تو اس پر  قضا واجب ہوگا اور جس نے  استصحاب کرتے ہوئے اس دن رمضان سمجھ کر روزہ رکھا ہے تو وہ بری الذمہ ہوگا؟

ج۔ مذکورہ چیزیں کسی کے لئے حجت شرعی نہیں ہیں لیکن اگر مکلف کو ان سے علم حاصل ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے علم و یقین کے مطابق علم کرسکتا ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.