روزہ دار کا احتلام اور صبح کی اذان کے بعد بیدار ہونا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

روزہ دار کا احتلام اور صبح کی اذان کے بعد بیدار ہونا

 

142. اگر کوئی شخص صبح کی اذان  سے پہلے یا اذان کے بعد سوجائے اور احتلام ہوجائے اور اذان کے بعد بیدار ہوجائے تو غسل کرنے کے لئے کتنی فرصت ہے؟

ج۔ مذکورہ سوال کے تحت جنب ہونا اس دن کے روزے کے لئے ضرر نہیں پہنچاسکتا ہے لیکن نماز کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔ اور غسل کو نماز کے وقت تک تاخیر کرسکتا ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.