خاص مریضوں کے روزے

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

خاص مریضوں کے روزے

گردے کے مریض کا روزہ

180. میرے گردے پتھری ساز ہیں اور طبیب حاذق کی تجویز یہ ہے کہ میں روزہ نہ رکھوں لیکن میرا دل نہیں چاہتا ہے کہ روزہ نہ رکھوں اور صرف تین گلاس پانی ایک ہی دفعہ یا تین مختلف اوقات میں پینے سے میرا عذر برطرف ہوجا تاہے , کیا میں اس صورت حال کے باوجود روزے رکھ سکتا ہوں؟
ج۔ پتھری سے چھٹکارا صرف  دن میں پانی یا دیگر مایعات استعمال کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہو تو  آپ پر روزہ واجب نہیں بلکہ روزہ رکھنا جائز بھی نہیں ہے اور پانی پینے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے. 

 

دیابطس کے مریضوں کا روزہ  

181. چونکہ شوگر کے مریض مجبور ہوتے ہیں کہ روزانہ  ایک  یا دو مرتبہ انسولین کا انجیکشن کریں۔ ( اس حالت میں ) دیر سے کھانا کھانے یا کھانے میں زیادہ فاصلہ خون میں شکر کی مقدار کم ہونے کے باعث ہوتی ہے اور اس طرح بے ہوشی اور تشنج کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر ایسے مریض کو دن میں چار بار کھانا کھانے کی تاکید کرتے ہیں۔ مہربانی فرما کر ان افراد کے روزوں کے بارے میں اپنی نظر بیان فرمائیں.
ج۔ اگر طلوع فجر سے غروب تک کھانے پینے سے پرہیز انکو ضرر پہنچاتی ہو یا ضرر کا ڈر ہو تو ان پر روزہ ر واجب نہیں بلکہ جائز نہیں ہے.

 

روزہ کی حالت میں گولیاں کھانا

182. روزہ  کی حالت  میں بلڈ پریشر کی گولیاں کھانا جائز ہے یا نہیں؟
ج۔ اگر ماہ رمضان میں ان گولیوں کا کھانا بلڈ پریشر کی علاج کے لئے ضروری ہے تو اشکال نہیں ہے لیکن گولیاں کھانے سے روزہ باطل ہوتا ہے.

 

183. اگر میرا اور بعض دوسرے لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ علاج کے لئے گولیوں کے استعمال پر کھانا  یا پینا صدق نہیں آتا ہے, کیا اس پر عمل کرنا جائز ہے اور کیا روزے کو ضرر نہیں پہنچایےگا؟
ج۔ گولیاں کھانے سے روزہ باطل ہوتا ہے.

 

روزانہ ماہ رمضان میں گولیاں استعمال کرنے پر مجبور ہونا

184. جو شخص مریض ہے اور ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق دن میں تین مرتبہ گولیاں کھانا ضروری ہے تو کیا ایسا شخص روزہ رکھ سکتا ہے؟
ج۔ ایسا شخص روزہ نہیں رکھ سکتا ہے.

 

مصنوعی سانس لینا

185. کیا مشین کے ذریعے مصنوعی سانس لینے سے روزہ باطل ہوتا ہے؟
ج۔ مشین کے ذریعے سے مصنوعی سانس لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا ہے.

 

سانس کی تنگی میں اسپرے سے استفادہ: 

186. تنگی نفس میں مبتلا افراد کے لئے ایسی طبی دوا موجود ہے جو ایک ڈبے میں کمپریسڈ مائع کی شکل میں  موجود ہے اس مائع دوا  کو دبانے سے گیس پوڈر  مادہ کی شکل میں   بیمار انسان کے منہ کے ذریعہ اس کے پھیپھڑوں میں  پہنہچتا ہے جو بیمار کی تسکین اور آرام   کا موجب بنتا ہے کبھی بیمار دن میں اس سے کئی بار استفادہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے کیا اس دوا کے استعمال کے باوجود روزہ رکھنا صحیح ہے؟ اس بات کے پیش نظر کہ اس کے استعمال کے بغیر روزہ رکھنا ناممکن یا بہت سخت ہوگا۔
ج۔  اگر مذکورہ وسیلہ سے صرف سانس کی راہ کھولنے کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے تو وہ مبطل روزہ نہیں ہے۔

 

187. میں پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہوں اور دوا کے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں  خصوصا جب بیماری شدید ہوجائے،  میری دوا بھی اسپرے کی شکل میں ہے  جب تنگي نفس  میں مبتلا ہوتا ہوں  تو آلہ کے ذریعہ دوا کا استعمال کرتا ہوں  کیا میں روزہ کی حالت میں دوا سے استفادہ کرسکتا ہوں۔

ج- اگر مذکورہ وسیلہ سے صرف سانس کی راہ کھولنے کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے تو وہ مبطل روزہ نہیں ہے۔

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.