بھوک اور پیاس کی وجہ سے روزہ توڑنا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

بھوک اور پیاس کی وجہ سے روزہ توڑنا

 

77. اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں روزہ دار ہو اور کسی ایک دن سحری کے لئے بیدار نہ ہوسکے اور اس وجہ سے غروب تک رورہ نہ رکھ سکے اور دن کے درمیان میں کوئی حادثہ پیش آئے اور روزہ توڑ دے تو کیا اس پر کفارہ واجب ہے؟

ج۔ اگر روزہ کو اس حد تک ادامہ دے کہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے روزہ اس کے لئے مشقت اور حرج کا باعث بن جائے  اور اسی وجہ سے روزہ توڑ دے تو اس پر فقط قضا واجب ہے اورکوئی کفارہ نہیں ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

[Total: 0    Average: 0/5]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.