باطل غسل کے ساتھ روزہ رکھنا

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

باطل غسل کے ساتھ روزہ رکھنا

 

128. میں غسل کرتے ہوئے پہلے دائیں طرف پھر سر اور پھر بائیں طرف کو دھوتا تھا اور اس حوالے سے کسی سے پوچھنے یا یا خود تحقیق کرنے میں کوتاہی کی ہے, میری نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ مذکورہ صورت میں غسل باطل ہے اور حدث کو رفع نہیں کرسکتا ہے اس لئے ایسے غسل سے پڑھی ہوئی نمازیں باطل  اور قضا واجب ہے, لیکن چونکہ  اس طرح کا غسل صحیح ہونے کا معتقد تھے اور جنابت پر باقی رہنا عمداً نہیں تھا اس لئے آپکے روزوں پر صحیح ہونے کا حکم کیا جاتا ہے.

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.