اگر نو بالغ لڑکیوں پر روزہ  کسی حد تک شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیاں شرعا قمری نو سال پورے ہونے کے بعد بالغ ہوتی ہیں؟

اگر نو بالغ لڑکیوں پر روزہ  کسی حد تک شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیاں شرعا قمری نو سال پورے ہونے کے بعد بالغ ہوتی ہیں؟

حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

روزہ رکھنے میں مشقت

 

9. اگر نو بالغ لڑکیوں پر روزہ  کسی حد تک شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیاں شرعا قمری نو سال پورے ہونے کے بعد بالغ ہوتی ہیں؟

ج۔ مشہور یہ ہے کہ قمری نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہو جاتی ہیں , اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور صرف کسی  معمولی عذر کی وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر روزہ  رکھنا ان کے لئے ضرر ہو یا  مشقت اور دشواری کے ساتھ رکھ سکتی ہو  تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔

 

منبع: سائیٹ ہدانا نے آیت اللہ العظمی حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای کے استفتائات سے اخذ کیا

🔗 لینک کوتاه

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.